پیش لفظ

پیش لفظ

مقامِ مطالعہ علم القرآن ابتدائی حصہ

پیش لفظ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ،
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ کَانَ نَبِیًّا وَّاٰدَمُ بَیْنَ الْمَائِ وَالطِّیْنِ،
سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ وَاَصْحَابِہِ الطَّاھِرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔

ترجمۂ قرآن میں احتیاط کا قدیم طریقہ

آج سے پچاس سال پہلے مسلمانوں کا یہ طریقہ تھا کہ عام مسلمان قرآن کریم کی تلاوت محض ثواب کی غرض سے کرتے تھے اور روزانہ کے ضروری مسائل، پاکی پلیدی، روزہ نماز کے احکام میں بہت محنت اور کوشش کرتے تھے۔ عام مسلمان قرآن شریف کا ترجمہ کرتے ہوئے ڈرتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ یہ دریا ناپیدا کنارہ ہے۔ اس میں غوطہ وہی لگائے جو اس کا شناور ہو، بے جانے بوجھے دریا میں کودنا جان سے ہاتھ دھونا ہے اور بے علم و فہم کے قرآن شریف کے ترجمہ کو ہاتھ لگانا اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ نیز ہر مسلمان کا خیال تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کا سوال ہم سے نہ قبر میں ہوگا نہ حشر میں۔ ہم سے سوال عبادات، معاملات کا ہوگا، اسے کوشش سے حاصل کرو۔ یہ تو عوام کی روش تھی۔

علماء وفضلاء کے لیے علومِ قرآن کی ضرورت

رہے علماء کرام اور فضلائے عظام، ان کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے قریباً اکیس علوم میں محنت کرتے تھے، مثلاً صرف، نحو، معانی، بیان، بدیع، ادب، لغت، منطق، فلسفہ، حساب، جیومیڑی، فقہ، تفسیر، حدیث، کلام، جغرافیہ، تواریخ، تصوف، اصول وغیرہ۔

ان علوم میں اپنی عمر کا کافی حصہ صرف کرتے تھے۔ جب نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے ان علوم میں پوری مہارت حاصل کرلیتے تب قرآن شریف کے ترجمہ کی طرف توجہ کرتے، پھر بھی اتنی احتیاط سے کہ آیاتِ متشابہات کو ہاتھ نہ لگاتے تھے کیونکہ اس قسم کی آیتیں رب تعالیٰ اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان راز و نیاز ہیں، اغیار کو یار کے معاملہ میں دخل دینا روا نہیں۔

میان طالب و مطلوب رمز یست!
کراما کاتبیں راہم خبر نیست!

رہیں آیاتِ محکمات، ان کے ترجمہ میں کوشش تو کرتے مگر گزشتہ سارے علوم کا لحاظ رکھتے ہوئے مفسرین، محدثین، فقہاء کے فرمان پر نظر کرتے ہوئے، پھر بھی پوری کوشش کرنے کے باوجود قرآن کریم کے سامنے اپنے کو طفلِ مکتب جانتے تھے۔

احتیاطی طریقۂ کار کے فوائد

اس طریقۂ کار کا فائدہ یہ تھا کہ مسلمان بد مذہبی، لادینی کا شکار نہ ہوتے تھے۔ وہ جانتے بھی نہ تھے کہ قادیانی کس بلا کا نام ہے اور دیوبندی کہاں کا بھوت ہے۔ غیر مقلدیت، نیچریت کس آفت کو کہتے ہیں۔ چکڑالوی کس جانور کا نام ہے۔

علماء کے وعظ خوفِ خدا، عظمت و ہیبتِ حضور محمد مصطفیٰ ﷺ، مسائلِ دینیہ اور علمی معلومات سے بھرے ہوتے تھے۔ وعظ سننے والے وعظ سن کر مسائل ایسے یاد کرتے تھے جیسے آج طالب علم سبق پڑھکر تکرار کرتے ہیں کہ آج مولوی صاحب نے فلاں فلاں مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ غرضیکہ عجیب نوری زمانہ تھا اور عجب نورانی لوگ تھے۔

بے احتیاط ترجمۂ قرآن کا آغاز

اچانک زمانہ کا رنگ بدلا، ہوا کے رخ میں تبدیلی ہوئی۔ بعض نادان دوستوں اور دوست نما دشمنوں نے عام مسلمانوں میں ترجمہ قرآن کرنے اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کیا اور عوام کو سمجھایا کہ قرآن عوام ہی کی ہدایت کے لئے آیا ہے، اس کا سمجھنا بہت سہل ہے۔ ہر شخص اپنی عقل و سمجھ سے ترجمہ کرے اور احکام نکالے، اس کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں۔

عوام میں یہ خیال یہاں تک پھیلایا کہ لوگوں نے قرآن کو معمولی کتاب اور قرآن والے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معمولی بشر سمجھ کر قرآن کے ترجمے بے دھڑک شروع کردیئے اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کمالات کا انکار بلکہ اس ذات کریم سے برابری کا دعویٰ شروع کردیا۔

اب عوام جہلا یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ خواندہ، ناخواندہ، انگریزی تعلیم یافتہ لغت کی تھوڑی باتیں یاد کر کے بڑے دعوے سے قرآن کا ترجمہ کر رہا ہے اور جو کچھ اس کی ناقص سمجھ میں آتا ہے اسے وحی الٰہی سمجھتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں روزانہ نئے نئے فرقے پیدا ہورہے ہیں جو ایک دوسرے کو کافر، مشرک، مرتد اور خارج از اسلام سمجھتے ہیں۔

ایک واقعہ: ترجمۂ قرآن کو نماز کی شرط قرار دینے کا نتیجہ

لطیفہ: ایک اردو اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے دوران تقریر کہا کہ جس کو قرآن کا ترجمہ نہ آتا ہو وہ نماز ہی نہ پڑھے کہ جب عرضی دینے والے کو یہ خبر ہی نہیں کہ درخواست میں کیا لکھا ہے تو درخواست ہی بیکار ہے۔ میں نے کہا کہ پھر عربی زبان میں نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ موجودہ انجیلوں کی طرح قرآن کے اردو ترجمے اور اردو خلاصے بنالو، اس میں نماز پڑھ لیا کرو، رب تعالیٰ اردو جانتا ہے۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔

قرآن کی طرف دعوت اور فتنۂ زمانہ

آج ہر بد مذہب ہر شخص کو قرآن کی طرف بلا رہا ہے کہ آؤ میرا دین قرآن سے ثابت ہے۔ اسی پر فتن زمانہ کی خبر حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دی تھی۔ اور ایسے دجالوں کا ذکر سرکار نے فرمایا تھا:

یَدْعُوْنَ اِلٰی كِتَابِ اللّٰهِ
وہ گمراہ گروہ ہر ایک کو قرآن کی طرف بلائے گا۔
سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی قتال الخوارج، الحدیث ۴۷۶۵، ج ۴، ص ۳۲۰، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ﴿۷۳﴾
مسلمان اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر گونگے اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔
پ ۱۹، الفرقان: ۷۳

کانپور میں ایک بد مذہب کا واقعہ

کانپور میں ایک بد مذہب پیدا ہوا، مسمی عزیز احمد حسرت شاہ جس نے ماہوار رسالہ ’’شحنۂ شریعت‘‘ جاری کیا۔ اس میں بالا لتزام لکھتا تھا کہ سارے نبی پہلے مشرک تھے، گنہگار تھے، معاذ اللہ بد کردار تھے، پھر توبہ کر کے اچھے بنے اور حسب ذیل آیات سے دلیل پکڑتا تھا کہ رب تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ ﴿۱۲۱﴾
آدم علیہ السلام نے رب کی نافرمانی کی لہٰذا گمراہ ہوگئے۔
پ ۱۶، طٰہٰ: ۱۲۱

حضور علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ ﴿۷﴾
یعنی رب نے تمہیں گمراہ پایا تو ہدایت دی۔
پ ۳۰، الضحیٰ: ۷

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاند، ستارے، سورج کو اپنا رب کہا، یہ شرک ہے۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ
پ ۷، الانعام: ۷۸

حضرت آدم و حوا کے بارے میں فرمایا:

جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَاۚ
ان دونوں نے اپنے بچہ میں رب کا شریک ٹھہرایا۔
پ ۹، الاعراف: ۱۹۰

یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ-وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖؕ
یقینا زلیخا نے یوسف اور یوسف نے زلیخا کا قصد کرلیا، اگر رب کی برہان نہ دیکھتے تو زنا کر بیٹھتے۔
پ ۱۲، یوسف: ۲۴

پھر لکھا کہ غیر عورت کو نظر بد سے دیکھنا اور برا ارادہ کرنا کتنا برا کام ہے جو یوسف علیہ السلام سے سرزد ہوا۔ داؤد علیہ السلام نے اوریا کی بیوی پر نظر کی اور اوریا کو قتل کروا دیا۔ یہاں تک بکواس کی کہ آدم علیہ السلام اور ابلیس دونوں سے گناہ بھی ایک ہی طرح کا ہوا اور سزا بھی یکساں ملی کہ ابلیس سے کہا گیا:

فَاخْرُ جْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ ﴿۳۴﴾
تو جنت سے نکل جا، تو مردود ہے۔
پ ۱۴، الحجر: ۳۴

آدم علیہ السلام سے کہا گیا:

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ ﴿۳۸﴾
ہم نے کہا کہ تم یہاں سے نکل جاؤ۔
پ ۱، البقرۃ: ۳۸

غرضیکہ دونوں کو دیس نکالے کی سزا دی، ہاں پھر آدم علیہ السلام نے توبہ کرلی اور ابلیس نے توبہ نہ کی۔ میں نے اس مرتد کو بہت سے جوابات دیئے مگر وہ یہی کہتا رہا کہ میں قرآن پیش کر رہا ہوں، کسی بزرگ، عالم، صوفی کے قول یا حدیث ماننے کو تیار نہیں۔ آخر کار میں نے اسے کہا کہ بتا رب تعالیٰ بھی بے عیب ہے کہ نہیں؟ بولا: ہاں! وہ بالکل بے عیب ہے۔

لفظی ترجمہ اور قرآنی الفاظ کا غلط مفہوم

میں نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے کہ خدا میں عیب بھی ہیں اور خدا چند ہیں۔ خدا کے دادا بھی ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے:

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ ﴿۵۴﴾
کفار نے فریب کیا اور خدا نے فریب کیا، خدا اچھا فریب کرنے والا ہے۔
پ ۳، اٰل عمران: ۵۴

معاذ اللہ! دوسرے مقام پر فرماتا ہے:

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ
یہ خدا کو دھوکا دیتے ہیں اور خدا انہیں دھوکا دیتا ہے۔
پ ۵، النساء: ۱۴۲

دیکھو دھوکا، فریب دہی، نمبر ۱۰ کے عیب ہیں مگر قرآن میں خدا کے لئے ثابت ہیں۔ اور فرماتا ہے:

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا
ہمارے رب کا دادا بڑا خاندانی ہے۔
پ ۲۹، الجن: ۳

خدا کا دادا ثابت ہوا۔ اور فرماتا ہے:

فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ ﴿۱۴﴾
اللہ برکت والا ہے جو تمام خالقوں سے اچھا ہے۔
پ ۱۸، المؤمنون: ۱۴

معلوم ہوا کہ خالق بہت سے ہیں۔ جب ترجمہ لفظی پر ہی معاملہ ہے تو اب رب کے لئے کیا کہے گا؟ تب وہ خاموش ہوا۔ ہم نے اس سے جو گفتگو کی وہ اپنی کتاب ’’قہر کبریا بر منکرین عصمت انبیاء‘‘ میں لکھ دی ہے جو جاء الحق کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع ہوچکی ہے۔ دیکھا آپ نے ان اندھا دھند ترجموں کا یہ نتیجہ ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور قرآن سے غلط استدلال

مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور اپنی نبوت کے ثبوت میں قرآن ہی کو پیش کیا، کہا کہ قرآن کہتا ہے:

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ
اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول پیغمبر چنتا رہے گا۔
پ ۱۷، الحج: ۷۵

معلوم ہوا کہ پیغمبر، رسول آتے ہی رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ اندھا دھند ترجمے بے ایمانی کی جڑ ہیں۔ آنکھوں پر پٹی باندھ لو جو چاہو بکواس کرو اور قرآن سے ثابت کر دو۔

جواہر القرآن اور آیات کو غلط محل پر چسپاں کرنے کا طریقہ

ابھی حال ہی میں ایک کتاب میری نظر سے گزری ہے ’’جواہر القرآن‘‘ جو کسی ملحد غلام اللہ خاں (اللہ کے غلام) نے لکھی ہے، اس میں بھی اندھا دھند ترجمہ کیا گیا ہے۔ بتوں کی آیات پیغمبروں پر، کفار کی آیتیں مسلمانوں پر بے دھڑک چسپاں کر کے مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا بھر کے علماء، صوفیاء، مومنین اور صالحین مشرک تھے اور مسلمان موحد صرف میں ہی ہوں یا میری ذریت۔

بخاری شریف جلد دوم میں باب باندھا ہے:

بَابُ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِیْنَ
خارجیوں اور بے دینوں کا باب

وہاں ترجمہ باب میں فرمایا:

وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَاھُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللّٰهِ وَقَالَ إِنَّهُمْ انْطَلَقُوْا إِلٰی آیَاتٍ نُزِلَتْ فِی الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْھَا عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان خارجیوں، ملحدوں کو اللہ کی مخلوق میں بدتر سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان بے دینوں نے ان آیتوں کو جو کفار کے حق میں نازل ہوئیں مسلمانوں پر چسپاں کیا۔
صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین... الخ، تحت الباب قتل الخوارج و الملحدین... الخ، ج ۴، ص ۳۸۰، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔

یہی طریقہ اس ملحد نے اختیار کیا ہے۔ غرضیکہ ترجمۂ قرآن بے دھڑک کرنا ہی ایسی بڑی بیماری ہے جس کا انجام ایمان کا صفایا ہے۔

ترجمۂ قرآن میں دشواریاں

قرآن شریف عربی زبان میں اترا، عربی زبان نہایت گہری زبان ہے۔ اولاً تو عربی زبان میں ایک لفظ کے کئی معنی آتے ہیں جیسے لفظ ’’ولی‘‘ کہ اس کے معنی ہیں دوست، قریب، مددگار، معبود، ہادی، وارث، والی، اور قرآن میں یہ لفظ ہر معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اب اگر ایک مقام کے معنی دوسرے مقام پر جڑ دیئے جائیں تو بہت جگہ کفر لازم آجاوے گا۔

پھر ایک ہی لفظ ایک معنی میں مختلف لفظوں کے ساتھ مل کر مختلف مضامین پیدا کرتا ہے، مثلاً شہادت بمعنی گواہی اگر ’’عَلٰی‘‘ کے ساتھ آئے تو خلاف گواہی بتاتا ہے اور اگر ’’لام‘‘ کے ساتھ آئے تو موافق گواہی کے معنی دیتا ہے۔ لفظ ’’قَالَ‘‘ بمعنی کہا۔ اگر ’’لام‘‘ کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس سے کہا۔ اگر ’’فِیْ‘‘ کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس کے بارے میں کہا۔ اگر ’’مِنْ‘‘ کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اس کی طرف سے کہا۔

ایسے ہی ’’دعا‘‘ کہ قرآن میں اس کے معنی پکارنا، بلانا، مانگنا اور پوجنا ہیں۔ جب مانگنے اور دعا کرنے کے معنی میں ہو تو اگر ’’لام‘‘ کے ساتھ آوے گا تو اس کے معنی ہوں گے اسے دعا دی اور جب ’’عَلٰی‘‘ کے ساتھ آوے تو معنی ہوں گے اسے بد دعا دی۔

اسی طرح عربی میں لام، مِنْ، عَنْ، ب سب کے معنی ہیں ’’سے‘‘ لیکن ان کے موقع استعمال علیحدہ ہیں۔ اگر اس کا فرق نہ کیا جائے تو معنی فاسد ہوجاتے ہیں۔ پھر محاورۂ عرب، فصاحت و بلاغت وغیرہ سب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ علم کامل کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا اور جب عوام کے ہاتھ یہ کام پہنچ جائے تو جو کچھ ترجمہ کا حشر ہوگا وہ ظاہر ہے۔

اس لئے آج اس ترجمہ کی برکت سے مسلمانوں میں بہت فرقے بن گئے ہیں۔ یہ مترجم حضرات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ جو ان کے کیے ہوئے ترجمہ کو نہ مانے، اسے مشرک، مرتد، کافر کہہ دیتے ہیں۔ تمام علماء و صلحاء کو کافر سمجھ کر اسلام کو صرف اپنے میں محدود سمجھنے لگے ہیں۔

جواہر القرآن کے فتوے اور اس کا نتیجہ

چنانچہ مولوی غلام اللہ خاں صاحب نے اپنی کتاب ’’جواہر القرآن‘‘ کے صفحہ ۱۴۱، ۱۴۳ پر لکھا کہ جو کوئی نبی، ولی، پیر، فقیر کو مصیبتوں میں پکارے وہ کافر، مشرک ہے۔ اس کا کوئی نکاح نہیں اور صفحہ ۱۵۲ پر تحریر فرمایا ہے کہ اس قسم کی نذر نیاز شرک ہے۔ اس کا کھانا خنزیر کی طرح حرام ہے۔

اس فتویٰ سے سارے مسلمان بلکہ خود دیوبندوں کے اکابر مشرک ہوگئے، بلکہ خود مصنف صاحب کی بھی خیر نہیں، وہ بھی اس کی زد سے نہیں بچے۔ چنانچہ یہاں گجرات سے ایک صاحب نے تحریری استفتاء مولوی غلام اللہ خاں صاحب کی خدمت میں بذریعہ جوابی ڈاک بھیجا جس میں سوال کیا کہ آپ نے اپنی کتاب ’’جواہر القرآن‘‘ کے صفحات مذکورہ پر لکھا ہے کہ پیروں کے پکارنے والے کا نکاح کوئی نہیں اور نذر نیاز کا کھانا خنزیر کی طرح حرام ہے۔

آپ کے محترم دوست اور دیوبندیوں کے مقتداء عالم عنایت اللہ شاہ صاحب گجراتی کے والد مولوی جلال شاہ صاحب ساکن دولت نگر ضلع گجرات، اور سنا گیا ہے کہ آپ کے والدین بھی گیارہویں کھاتے تھے اور کھلاتے تھے، ’’ختم غوثیہ‘‘ پڑھتے تھے جس میں یہ شعر موجود ہے:

امداد کن امداد کن از بحر غم آزاد کن
در دین و دنیا شاد کن یا شیخ عبدالقادر

جلال شاہ کے عینی گواہ ایک نہیں، دو نہیں، بہت زیادہ موجود ہیں۔ فرمایا جاوے کہ ان کا نکاح ٹوٹا تھا یا نہیں اور اگر نکاح ٹوٹ گیا تھا تو آپ کے کیسے ہوئے، کیونکہ آپ اس ٹوٹے ہوئے نکاح کی اولاد ہیں۔ نیز گیارہویں کا کھانا جب خنزیر کی طرح حرام ہوا تو جو کوئی اسے حلال جانے وہ مرتد ہوا اور مرتد کا نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے تو آپ دونوں بزرگوں کے والد صاحبان اسے حلال جان کر کھاتے کھلاتے تھے۔

اب آپ کے ہونے کی کیا صورت ہے؟ بصورت دیگر آپ دونوں بزرگوں کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اس کا جواب ابھی تک نہیں ملا اور امید بھی نہیں کہ ملے، کیونکہ عربی کا مقولہ ہے:

مَنْ حَفَرَ لِاَخِیْہِ وَقَعَ فِیْہِ
جو دوسرے کے گرنے کو گڑھا کھودتا ہے خود اس میں گرتا ہے۔

دوسرے مسلمانوں کے نکاح تو بعد میں ٹوٹیں گے، پہلے اپنے والدین کے نکاح کی خبر لیں۔ کوئی صاحب ان بزرگوں سے اس معمہ کو حل کرادیں اور اس کا جواب دلوادیں، ہم مشکور ہوں گے۔

بے دھڑک ترجموں کے نتائج

غرض کہ بے دھڑک ترجمے بڑی خرابیوں کی جڑ ہیں۔ اس سے قادیانی، نیچری، چکڑالوی، غیرمقلد، وہابی، دیوبندی، مودودی، بابی، بہائی وغیرہ فرقے بنے۔ ان سب فرقوں کی جڑ خود ساختہ ترجمے ہیں۔

کتاب کی تصنیف کی ترغیب

اس بدتر حالت کو دیکھتے ہوئے میرے محترم دوست حضرت سید الحاج محمد معصوم شاہ صاحب قبلہ قادری جیلانی نے بارہا فرمائش کی کہ کوئی ایسی کتاب لکھی جائے جو موجودہ ترجمۂ قرآن پڑھنے والوں کے لئے رہبر کا کام دے جس میں ایسے قواعد و اصطلاحات اور مسائل بیان کردیئے جائیں جن کے مطالعہ سے ترجمہ پڑھنے والا دھوکا نہ کھائے۔ چونکہ یہ کام بڑا تھا اور میں کثرت مشاغل کی وجہ سے بالکل فارغ نہ تھا، اس لیے اس کام میں دیر لگتی رہی۔

رمضان المبارک میں کتاب کی تصنیف کا خیال

اتفاقاً اس ماہ رمضان المبارک میں میرے محترم دوست قبلہ قاری الحاج احمد حسن صاحب خطیب عید گاہ گجرات میرے پاس ’’جواہر القرآن‘‘ لائے اور فرمایا کہ آپ لوگ آرام کر رہے ہیں اور ملحدین اس طرح مسلمانوں کو ترجمے دکھا کر گمراہ کر رہے ہیں۔ تب میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں نے بارگاہ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ٹکڑے کھائے ہیں، انہی کے نام پر پلا ہوں، ان کے دروازے کا ادنیٰ چوکیدار ہوں۔ اگر چوکیدار چور کو آتے دیکھ کر غفلت سے کام لے تو مجرم ہے۔

اس وقت میرا خاموش رہنا واقعی جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم اور حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت پر بھروسا کر کے اس طرف توجہ کی۔

کتاب کے تین ابواب

اس کتاب کے تین باب ہوں گے۔ پہلے باب میں قرآن کریم کی اصطلاحات بیان ہوں گی جس میں بتایا جاوے گا کہ قرآن کریم میں کون کون سا لفظ کس کس جگہ کس کس معنی میں آیا ہے۔ دوسرے باب میں قواعدِ قرآنیہ بیان ہوں گے جس میں ترجمۂ قرآن کرنے کے قاعدے عرض کیے جاویں گے جس سے ترجمہ میں غلطی نہ ہو۔ تیسرے باب میں کل مسائلِ قرآنیہ۔

اس باب میں وہ مسائل بھی بیان ہوں گے جو آج کل مختلف فیہ ہیں۔ جن مسائل کی وجہ سے دیوبندی، وہابی، عام مسلمین کو مشرک و کافر کہتے ہیں، انہیں صریح آیات سے ثابت کیا جاویگا تاکہ پتا لگے کہ یہ مسائل قرآن میں صراحۃً موجود ہیں اور مخالفین غلط ترجمہ سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

کتاب کا نام

اس کتاب کا نام ’’علم القرآن لترجمۃ الفرقان‘‘ رکھتا ہوں۔ اپنے رب کریم سے امید قبولیت ہے۔ جو کوئی اس کتاب سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ گنہگار کے لئے دعا کرے کہ رب تعالیٰ اسے میرے گناہوں کا کفارہ اور توشۂ آخرت بنائے۔

وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلَّا بِاللّٰهِ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَیْهِ أُنِیْبُ

احمد یار خاں نعیمی اشرفی

سرپرست: مدرسہ غوثیہ نعیمیہ گجرات (پاکستان)

۲۲ رمضان المبارک، ۱۳۷۱ھ، دوشنبہ مبارک

اوپر تک سکرول کریں۔